جامع الترمذي - حدیث 1596

أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ الْعَبْدِ​ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1596

کتاب: سیر کے بیان میں غلام کی بیعت کا بیان​ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرمﷺ نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے ، اتنے میں اس کامالک آگیا، نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' مجھے اسے بیچ دو'، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خریدلیا ، اس کے بعدآپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیاوہ غلام ہے؟ ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ،۲- ہم اس کو صرف ابوالزبیر کی روایت سے جانتے ہیں،۳- اس باب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔
تشریح : ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہواکہ ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدنا اور بیچنا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ خرید وفروخت بصورت نقد ہو، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیعت کے لیے آئے ہوئے شخص سے اس کی غلامی و آزادی سے متعلق پوچھ لینا ضروری ہے، کیوں کہ غلام ہونے کی صورت میں اس سے بیعت لینی صحیح نہیں۔ ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہواکہ ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدنا اور بیچنا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ خرید وفروخت بصورت نقد ہو، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیعت کے لیے آئے ہوئے شخص سے اس کی غلامی و آزادی سے متعلق پوچھ لینا ضروری ہے، کیوں کہ غلام ہونے کی صورت میں اس سے بیعت لینی صحیح نہیں۔