جامع الترمذي - حدیث 152

أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مِنْهُ​ صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَالْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ أَقِمْ مَعَنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ فَأَقَامَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ مِنْ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ فَأَقَامَ وَالشَّمْسُ آخِرَ وَقْتِهَا فَوْقَ مَا كَانَتْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ إِلَى قُبَيْلِ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ فَأَقَامَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا فَقَالَ مَوَاقِيتُ الصَّلَاةِ كَمَا بَيْنَ هَذَيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ قَالَ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ أَيْضًا

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 152

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل اوقات صلاۃ سے متعلق ایک اور باب​ بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اس نے آپ سے اوقاتِ صلاۃ کے بارے میں پوچھا توآپ نے فرمایا: تم ہمارے ساتھ قیام کرو (تمہیں صلاۃ کے اوقات معلوم ہوجائیں گے)ان شاء اللہ، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی جب فجر (صادق) طلوع ہوگئی پھرآپ نے حکم دیا تو انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد اقامت کہی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا توانہوں نے اقامت کہی آپ نے عصر پڑھی اس وقت سورج روشن اور بلندتھا، پھرجب سورج ڈوب گیا توآپ نے انہیں مغرب کا حکم دیا،پھرجب شفق غائب ہوگئی توآپ نے انہیں عشاء کاحکم دیا توانہوں نے اقامت کہی ، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا توانہوں نے فجرکوخوب اجالا کرکے پڑھا، پھر آپ نے انہیں ظہرکاحکم دیا توانہوں نے ٹھنڈا کیا،اورخوب ٹھنڈا کیا، پھر آپ نے انہیں عصرکا حکم دیا اورانہوں نے اقامت کہی تواس وقت سورج اس کے آخروقت میں اس سے زیادہ تھا جتنا پہلے دن تھا (یعنی دوسرے دن عصرمیں تاخیر ہوئی)، پھر آپ نے انہیں مغرب میں دیر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے مغرب کوشفق کے ڈوبنے سے کچھ پہلے تک مؤخرکیا، پھر آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا توانہوں نے جب تہائی رات ختم ہوگئی تو اقامت کہی، پھر آپ نے فرمایا:' صلاۃ کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟' تو اس آدمی نے عرض کیا: میں ہوں، آپ نے فرمایا:'صلاۃ کے اوقات انہیں دونوں کے بیچ میں ہیں'۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ، غریب صحیح ہے۔