جامع الترمذي - حدیث 147

أَبْوَابُ الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ يُصِيبُ الأَرْضَ​ صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ ﷺ جَالِسٌ، فَصَلَّى، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: اللّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: "لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا"، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلاً مِنْ مَاء - أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ -، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ".

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 147

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل جس زمین پر پیشاب لگ جائے​ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے صلاۃ پڑھی،جب صلاۃ پڑھ چکا تو کہا:اے اللہ تومجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پررحم مت فرما۔نبی اکرم ﷺنے اس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:' تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی رحمت الٰہی) کو تنگ کردیا'،پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جاکر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: 'اس پر ایک ڈول پانی بہا دو، پھرآپ نے فرمایا :' تم تو آسانی کرنے والے بناکر بھیجے گئے ہو ناکہ سختی کرنے والے' ۱؎ ۔
تشریح : ۱؎ : آپ ﷺ نے یہ بات صحابہ سے ان کے اس اعرابی کوپھٹکارنے پرفرمائی، یعنی نرمی سے اس کے ساتھ معاملہ کرو، سختی نہ برتو۔ ۱؎ : آپ ﷺ نے یہ بات صحابہ سے ان کے اس اعرابی کوپھٹکارنے پرفرمائی، یعنی نرمی سے اس کے ساتھ معاملہ کرو، سختی نہ برتو۔