جامع الترمذي - حدیث 1348

أَبْوَابُ الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ​ صحيح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ قَالَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتَقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَقَالَ شَقِيصًا قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ قَتَادَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَمْرَ السِّعَايَةِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السِّعَايَةِ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ السِّعَايَةَ فِي هَذَا وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَقُ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ غَرِمَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ وَعَتَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ مِنْ الْعَبْدِ مَا عَتَقَ وَلَا يُسْتَسْعَى وَقَالُوا بِمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1348

کتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں دوآدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کردے​ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہوگی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کوپریشانی میں ڈالے بغیراسے موقع دیاجائے گا کہ وہ کمائی کرکے اس شخص کاحصہ ادا کردے جس نے اپنا حصہ آزادنہیں کیا ہے'۔محمدبن بشارسے بھی ایسے ہی روایت ہے اور اس میں ' شقصاً 'کے بجائے 'شقیصا' ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اوراسی طرح ابان بن یزید نے قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کے مثل روایت کی ہے،۳- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے اس سے آزادی کے لیے کمائی کرانے کا ذکرنہیں کیا ہے، ۴- سعایہ (کمائی کرانے)کے سلسلے میں ا ہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے اس بارے میں سعایہ کو جائز کہا ہے۔اوریہی سفیان ثوی اور اہل کوفہ کابھی قول ہے ،اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں،۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے،۶- اوربعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب غلام دوآدمیوں میں مشترک ہواوران میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کردے تواگراس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ساجھی دار کے حصے کا تاوان اداکرے گا اور غلام اسی کے مال سے آزاد ہوجائے گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کو جتنا آزاد کیاگیا ہے اتنا آزاد ہوگا، اور باقی حصہ کی آزادی کے لیے اس سے کمائی نہیں کرائی جائے گی۔اوران لوگوں نے نبی اکرمﷺسے مروی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی رُوسے یہ بات کہی ہے،اوریہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے۔ اور مالک بن انس ، شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔