جامع الترمذي - حدیث 1327

أَبْوَابُ الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي الْقَاضِي كَيْفَ يَقْضِي​ ضعيف حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: "كَيْفَ تَقْضِي؟" فَقَالَ: أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ، قَالَ: "فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ؟" قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: "فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ؟" قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي قَالَ: "الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ ﷺ".

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1327

کتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں قاضی فیصلہ کیسے کرے؟​ معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے معاذ کو (قاضی بناکر) یمن بھیجا ،تو آپ نے پوچھا:'تم کیسے فیصلہ کروگے؟' انہوں نے کہا:میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: 'اگر ( اس کا حکم) اللہ کی کتاب (قرآن) میں موجود نہ ہوتو؟' معاذ نے کہا:تورسول اللہ ﷺ کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا:' اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی (اس کا حکم ) موجود نہ ہوتو؟' معاذ نے کہا:(تب)میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔آپ نے فرمایا:' اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو (صواب کی) توفیق بخشی'۔
تشریح : نوٹ:( سند میں'الحارث بن عمرو'اور'رجال من اصحاب معاذ'مجہول راوی ہیں) نوٹ:( سند میں'الحارث بن عمرو'اور'رجال من اصحاب معاذ'مجہول راوی ہیں)