جامع الترمذي - حدیث 1283

أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْفَرْقِ بَيْنَ الأَخَوَيْنِ أَوْ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فِي الْبَيْعِ​ حسن حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1283

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل غلاموں کی بیع میں دوبھائیوں یا ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی حرام ہے​ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا:' جو شخص ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اوراس کے دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح : ۱؎ : یہ حدیث ماں اوربچے کے درمیان جدائی ڈالنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے، خواہ یہ بیع کے ذریعہ ہو یاہبہ کے ذریعہ یا دھوکہ دھڑی کے ذریعہ، اوروالدہ کالفظ مطلق ہے اس میں والدبھی شامل ہیں۔ ۱؎ : یہ حدیث ماں اوربچے کے درمیان جدائی ڈالنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے، خواہ یہ بیع کے ذریعہ ہو یاہبہ کے ذریعہ یا دھوکہ دھڑی کے ذریعہ، اوروالدہ کالفظ مطلق ہے اس میں والدبھی شامل ہیں۔