جامع الترمذي - حدیث 1281

أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابٌ​ الرُّخْصَةِ فِي ثَمَنِ الْكَلْبِ الصید حسن أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ إِلَّا كَلْبَ الصَّيْدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَضَعَّفَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ أَيْضًا

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1281

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل شکاری کتے کی قیمت جائز ہونے کے بیان میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ( رسول اللہ ﷺنے ) کتے کی قیمت سے منع فرمایاہے سوائے شکاری کتے کی قیمت کے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں ہے، ۲- ابومہزم کانام یزید بن سفیان ہے، ان کے سلسلہ میں شعبہ بن حجاج نے کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے،۳- اورجابر سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺسے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے،اور ا س کی سند بھی صحیح نہیں ہے، دیکھیے الصحیحۃ رقم: ۲۹۷۱۔
تشریح : نوٹ:(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ اس کے راوی 'ابوالمہزم' ضعیف ہیں) نوٹ:(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ اس کے راوی 'ابوالمہزم' ضعیف ہیں)