جامع الترمذي - حدیث 1258

أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي اشْتِرَاطِ الْوَلاَءِ وَالزَّجْرِ عَنْ ذَلِكَ​ صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا لِأَشْتَرِيَ لَهُ شَاةً فَاشْتَرَيْتُ لَهُ شَاتَيْنِ فَبِعْتُ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ وَالدِّينَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ فَقَالَ لَهُ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي صَفْقَةِ يَمِينِكَ فَكَانَ يَخْرُجُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى كُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَيَرْبَحُ الرِّبْحَ الْعَظِيمَ فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِ الْكُوفَةِ مَالًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالُوا بِهِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَلَمْ يَأْخُذْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِنْهُمْ الشَّافِعِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبُو لَبِيدٍ اسْمُهُ لِمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1258

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل ولاء کی شرط لگانے اور اس پرسرزنش کرنے کا بیان​ عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے بکری خرید نے کے لیے مجھے ایک دنیا ر دیا،تو میں نے اس سے دوبکریاں خریدیں، پھران میں سے ایک کو ایک دینار میں بیچ دیا اورایک بکری اورایک دینار لے کر نبی اکرمﷺ کے پاس آیا ،اور آپ سے تمام معاملہ بیان کیااور آپ نے فرمایا:' اللہ تمہیں تمہارے ہاتھ کے سودے میں برکت دے'، پھراس کے بعد وہ کوفہ کے کناسہ کی طرف جاتے اور بہت زیادہ منافع کماتے تھے۔ چنانچہ وہ کوفہ کے سب سے زیادہ مال دار آدمی بن گئے ۔مؤلف نے احمد بن سعید دارمی کے طرق سے زبیربن خریت سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور وہ اسی کے قائل ہیں اور یہی احمد اوراسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔بعض اہل علم نے اس حدیث کو نہیں لیاہے، انہیں لوگوں میں شافعی اور حماد بن زید سعید بن زید کے بھائی ہیں۔