جامع الترمذي - حدیث 1256

أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي اشْتِرَاطِ الْوَلاَءِ وَالزَّجْرِ عَنْ ذَلِكَ​ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالَ وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ يُكْنَى أَبَا عَتَّابٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ عَنْ ابْنِ الْمَدِينِيِّ قَال سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ إِذَا حُدِّثْتَ عَنْ مَنْصُورٍ فَقَدْ مَلَأْتَ يَدَكَ مِنْ الْخَيْرِ لَا تُرِدْ غَيْرَهُ ثُمَّ قَالَ يَحْيَى مَا أَجِدُ فِي إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَمُجَاهِدٍ أَثْبَتَ مِنْ مَنْصُورٍ قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ مَنْصُورٌ أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1256

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل ولاء کی شرط لگانے اور اس پرسرزنش کرنے کا بیان​ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ(لونڈی) کو خرید ناچاہا، توبریرہ کے مالکوں نے ولاء ۱؎ کی شرط لگائی تونبی اکرمﷺنے عائشہ سے فرمایا: 'تم اسے خرید لو، (اور آزاد کردو)اس لیے کہ ولاء تو اسی کا ہوگا جو قیمت اداکرے، یاجونعمت (آزاد کرنے) کا مالک ہو'۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی حدیث مروی ہے،۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
تشریح : ۱؎ : ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑکر مرے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائع کے لیے ولاء کی شرط لگاناصحیح نہیں، ولاء اسی کا ہوگا جو خرید کر آزاد کرے۔ ۱؎ : ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑکر مرے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائع کے لیے ولاء کی شرط لگاناصحیح نہیں، ولاء اسی کا ہوگا جو خرید کر آزاد کرے۔