جامع الترمذي - حدیث 1151

أَبْوَابُ الرَّضَاعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ​ صحيح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنِّي قَالَ فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي بِوَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ قَالَ وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ دَعْهَا عَنْكَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ أَجَازُوا شَهَادَةَ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الرَّضَاعِ وَيُؤْخَذُ يَمِينُهَا وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحُكْمِ وَيُفَارِقُهَا فِي الْوَرَعِ

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1151

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل رضاعت کے سلسلہ میں ایک عورت کی گواہی کا بیان​ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک عورت سے شادی کی تو ایک کالی کلوٹی عورت نے ہمارے پاس آکرکہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر عرض کیاکہ میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی ہے، اب ایک کالی کلوٹی عورت نے آکرکہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایاہے، وہ جھوٹ کہہ رہی ہے۔ آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیاتو میں آپ کے چہرے کی طرف سے آیا، آپ نے( پھر) اپنا چہرہ پھیرلیا۔ میں نے عرض کیا: وہ جھوٹی ہے۔آپ نے فرمایا:' یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ وہ کہہ چکی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔اپنی بیوی اپنے سے علاحدہ کردو' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس حدیث کو کئی اوربھی لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے اورابن ابی ملیکہ نے عقبۃ بن حارث سے روایت کی ہے اوران لوگوں نے اس میں عبیدبن ابی مریم کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیزاس میں 'دعہا عنک' ( اسے اپنے سے علاحدہ کردو) کا ذکربھی نہیں ہے۔ اس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے،۳ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کااسی حدیث پر عمل ہے۔ انہوں نے رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت کو درست قراردیا ہے،۴- ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت جائز ہے ۔ لیکن اس سے قسم بھی لی جائے گی۔احمد اوراسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں،۵- اور بعض اہل علم نے کہاہے کہ ایک عورت کی گواہی درست نہیں جب تک کہ وہ ایک سے زائدنہ ہوں۔ یہ شافعی کا قول ہے، ۶- وکیع کہتے ہیں: ایک عورت کی گواہی فیصلے میں درست نہیں۔ اوراگر ایک عورت کی گواہی سن کروہ بیوی سے علاحدگی اختیارکرلے تو یہ عین تقویٰ ہے۔
تشریح : ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہواکہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک مرضعہ کی گواہی کافی ہے ۔ ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہواکہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک مرضعہ کی گواہی کافی ہے ۔