جامع الترمذي - حدیث 1018

أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ باب أين تدفَن الأنبياءُ؟ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ قَالَ مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيُّ يُضَعَّفُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ فَرَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا

ترجمہ جامع ترمذی - حدیث 1018

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل انبیاء علیہم السلام کہاں دفنائے جاتے ہیں؟ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی تدفین کے سلسلے میں لوگوں میں اختلاف ہوا ۱؎ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ سے ایک ایسی بات سنی ہے جو میں بھولا نہیں ہوں، آپ نے فرمایا:' جتنے بھی نبی ہوئے ہیں اللہ نے ان کی روح وہیں قبض کی ہے جہاں وہ دفن کیاجاناپسندکرتے تھے (اس لیے ) تم لوگ انہیں ان کے بسترہی کے مقام پردفن کرو'۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، عبدالرحمن بن ابی بکر ملیکی اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- یہ حدیث اس کے علاوہ طریق سے بھی مروی ہے۔ ابن عباس نے ابوبکر صدیق سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے۔
تشریح : ۱؎ : بعض کی رائے تھی کہ مکہ میں دفن کیا جائے بعض کی مدینہ میں اوربعض کی بیت المقدس میں۔ نوٹ:(سند میں عبدالرحمن بن ابی ملیکہ ضعیف راوی ہیں،لیکن متابعات کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے ) ۱؎ : بعض کی رائے تھی کہ مکہ میں دفن کیا جائے بعض کی مدینہ میں اوربعض کی بیت المقدس میں۔ نوٹ:(سند میں عبدالرحمن بن ابی ملیکہ ضعیف راوی ہیں،لیکن متابعات کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے )