كِتَابُ بَابُ: مَا جَاءَ فِي رُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: ((هَذَا الْحَدِيثُ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأَخُذُونَ دِينَكُمْ))
کتاب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان
’’امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ تو دیکھا کرو کہ تم یہ دین کس سے حاصل کرتے ہو؟
تشریح :
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الشمائل المحمدیة‘‘ کو اس روایت پر ختم کیا ہے جو سند کی اہمیت و افادیت پر مشتمل ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ کوئی حدیث سند کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ اسی کی وجہ سے یہ دین آج تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اگر سند کا نظام نہ ہوتا تو شاید یہ دین بھی سابقہ ادیان کی طرح تغیر و تبدل کا شکار ہو گیا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ محدثین کی مساعیٔ جمیلہ کو قبول فرمائے کہ انہوں نے سند کے نظام پر بے حدمحنتیں فرمائیں اور آج بلاشبہ ہزاروں نہیں لاکھوں رجالِ حدیث کی زندگیاں محفوظ ہو گئیں۔ امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ ’’ اَلْإِسْنَادُ مِنَ الدِّیْنِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ‘‘ (صحیح مسلم: ۱؍۱۵)’’ سند دین میں سے ہے۔ اگر سند نہ ہوتی تو ہر شخص جو چاہتا کہہ دیتا۔‘‘
یہاں شمائل ترمذی رحمہ اللہ کی شرح کا اختتام ہو رہا ہے، اس موقع پر میں اللہ تعالیٰ عزوجل کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ بابرکت اور سعید کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس کے بعد میں ان تمام احباب کا شکر گزار ہوں جو اس کام میں کسی بھی طرح میرے معاون بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب و سنت پر عمل کرنے والا بنا دے اور اس کتاب کی شرح کو محشر کی ہولناک گھڑی میں ہمارے لیے ذریعہ نجات بنا دے۔
ورحم اللّٰه عبدًا قال آمینًا
تخریج :
روایت کی سند صحیح ہے۔ صحیح مسلم، مقدمه باب بیان أن الإسناد من الدین۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الشمائل المحمدیة‘‘ کو اس روایت پر ختم کیا ہے جو سند کی اہمیت و افادیت پر مشتمل ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ کوئی حدیث سند کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ اسی کی وجہ سے یہ دین آج تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اگر سند کا نظام نہ ہوتا تو شاید یہ دین بھی سابقہ ادیان کی طرح تغیر و تبدل کا شکار ہو گیا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ محدثین کی مساعیٔ جمیلہ کو قبول فرمائے کہ انہوں نے سند کے نظام پر بے حدمحنتیں فرمائیں اور آج بلاشبہ ہزاروں نہیں لاکھوں رجالِ حدیث کی زندگیاں محفوظ ہو گئیں۔ امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ ’’ اَلْإِسْنَادُ مِنَ الدِّیْنِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ‘‘ (صحیح مسلم: ۱؍۱۵)’’ سند دین میں سے ہے۔ اگر سند نہ ہوتی تو ہر شخص جو چاہتا کہہ دیتا۔‘‘
یہاں شمائل ترمذی رحمہ اللہ کی شرح کا اختتام ہو رہا ہے، اس موقع پر میں اللہ تعالیٰ عزوجل کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ بابرکت اور سعید کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس کے بعد میں ان تمام احباب کا شکر گزار ہوں جو اس کام میں کسی بھی طرح میرے معاون بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب و سنت پر عمل کرنے والا بنا دے اور اس کتاب کی شرح کو محشر کی ہولناک گھڑی میں ہمارے لیے ذریعہ نجات بنا دے۔
ورحم اللّٰه عبدًا قال آمینًا