شمائل ترمذی - حدیث 410

كِتَابُ بَابُ: مَا جَاءَ فِي رُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ،أَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي)) وَقَالَ: ((وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ))

ترجمہ شمائل ترمذی - حدیث 410

کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان ’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یقیناً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا ہے، بلا شبہ شیطان میری شکل و صورت اختیار نہیں کر سکتا۔‘‘ اور فرمایا: ’’مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔‘‘
تشریح : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت سے متعلق شمائل ترمذی کے آخری باب کی یہ آخری روایت ہے جو سابقہ احادیث کا مضمون ہی بیان کرتی ہے کہ جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان لعین کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل و صورت اختیار کر سکے۔ حدیث کے آخری جزء میں ہے کہ مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے مطلب یہ ہے کہ نیک اور صالح آدمی کا خواب سچا ہوتا ہے جس طرح نبوت کے ابتدائی چھ ماہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب آتے تھے۔ زمانۂ نبوت کی تقسیم کی جائے تو تیئس سالہ دورِ نبوت کی ۴۶ ششماہیاں بنتی ہیں جن میں سے پہلے چھ ماہ کا زمانۂ نبوت رویاء صالحہ و صادقہ پر مشتمل تھا۔ والله اعلم۔
تخریج : صحیح بخاري، کتاب التعبیر (۱۲؍۶۹۹۴)، صحیح مسلم، کتاب الرویاء (۴؍۱۷۷۳، ۱۷۷۵)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت سے متعلق شمائل ترمذی کے آخری باب کی یہ آخری روایت ہے جو سابقہ احادیث کا مضمون ہی بیان کرتی ہے کہ جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان لعین کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل و صورت اختیار کر سکے۔ حدیث کے آخری جزء میں ہے کہ مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے مطلب یہ ہے کہ نیک اور صالح آدمی کا خواب سچا ہوتا ہے جس طرح نبوت کے ابتدائی چھ ماہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب آتے تھے۔ زمانۂ نبوت کی تقسیم کی جائے تو تیئس سالہ دورِ نبوت کی ۴۶ ششماہیاں بنتی ہیں جن میں سے پہلے چھ ماہ کا زمانۂ نبوت رویاء صالحہ و صادقہ پر مشتمل تھا۔ والله اعلم۔