شمائل ترمذی - حدیث 406

كِتَابُ بَابُ: مَا جَاءَ فِي رُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُنِي)) قَالَ أَبِي: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: قَدْ رَأَيْتُهُ، فَذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقُلْتُ: شَبَّهْتُهُ بِهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ((إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُهُ))

ترجمہ شمائل ترمذی - حدیث 406

کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان ’’سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا ہے۔ کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار نہیں کر سکتا۔‘‘ راوی کلیب کہتے ہیں میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بیان کی اور کہا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے پھر میں سیدنا حسن بن علی کا ذکر کیا کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مشابہ پایا ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تصدیق کی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ واقعی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہیں۔
تشریح : اس حدیث کا مضمون بھی سابقہ حدیثوں کے موافق ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ راوی کلیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے مشابہ پایا۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مشابہت کی تصدیق بعض دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے۔
تخریج : یہ حدیث صحیح ہے۔ مسند أحمد بن حنبل (۲؍۲۳۲،۲۴۲)، مستدرك حاکم (۴؍۳۹۳) وقال صحیح الأسناد و وافقه الذهبي، فتح الباري (۱۲؍۴۰۰) وقال إسناده جید۔ اس حدیث کا مضمون بھی سابقہ حدیثوں کے موافق ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ راوی کلیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے مشابہ پایا۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مشابہت کی تصدیق بعض دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے۔