كِتَابُ بَابُ: مَا جَاءَ فِي رُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَصَوَّرُ)) أَوْ قَالَ: ((لَا يَتَشَبَّهُ بِي))
کتاب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان
’’سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے بلا شبہ مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل و صورت میں متشکل نہیں ہو سکتا۔‘‘ (راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ((یَتَصَوَّرُ)) کہا یا ((یَتَشَبَّهُ)) کا لفظ استعمال کیا)
تشریح :
یعنی جس شخص نے مجھے دیکھا درحقیقت اس نے میری ظاہری سیرت اور صورت دیکھ لی کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف طریقوں سے دیکھے تو یہ دیکھنا اس کی اپنی حالت کے اعتبار سے ہے مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش دیکھ رہا ہے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور اتباعِ سنت کا اشارہ ہے اور اگر غصہ اور ناراضگی میں دیکھ رہا ہے تو یہ عدمِ اطاعت کی طرف اشارہ ہے۔ والله اعلم
تخریج :
صحیح بخاری، کتاب العلم، باب إثم من کذب علی النبي صلى الله عليه وسلم وصحیح مسلم، کتاب الرویاء (۴؍۱۱ برقم ۱۷۷۵)۔
یعنی جس شخص نے مجھے دیکھا درحقیقت اس نے میری ظاہری سیرت اور صورت دیکھ لی کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف طریقوں سے دیکھے تو یہ دیکھنا اس کی اپنی حالت کے اعتبار سے ہے مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش دیکھ رہا ہے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور اتباعِ سنت کا اشارہ ہے اور اگر غصہ اور ناراضگی میں دیکھ رہا ہے تو یہ عدمِ اطاعت کی طرف اشارہ ہے۔ والله اعلم