سنن النسائي - حدیث 996

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ الْقِرَاءَةُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 996

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: (قل ھو اللہ احد) پڑھنے کی فضیلت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے ایک آدمی کو (نماز میں) بار بار سورہ (قل ھو اللہ احد) پڑھتے سنا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بات کا آپ سے ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً یہ سورت تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔‘‘ (۱)’’تہائی کے برابر‘‘ اس کے متعلق اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اپنے مضمون کے لحاظ سے تہائی کے برابر ہے کیونکہ دین کی بنیاد تین چیزوں پر ہے: (۱) توحید (۲) رسالت اور (۳) آخرت۔ اس میں کامل و اکمل توحید کا بیان ہے۔ بعض اہل علم کا یہ خیال ہے کہ اسے ایک تہائی قرآن اس لیے کہا گیا ہے کہ قرآن میں احکام، اخبار اور اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی گئی ہے۔ اور یہ سورت تیسرے حصے پر مشتمل ہے، لہٰذا یہ تہائی قرآن ہے۔ ان کی دلیل صحیح مسلم کی روایت ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا، چنانچہ سورۂ (قل ھو اللہ احد) کو تیسرا حصہ بنایا۔‘‘ (صحیح مسلم صلاۃ المسافرین، حدیث: ۸۱۱) اور بعض کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی تلاوت کا ثواب ایک تہائی قرآن کی تلاوت کے برابر ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (فتح الباری: ۷۸-۷۷/۹، تحت حدیث: ۵۰۱۳) یہ ہر ایک گروہ کی اپنی اپنی توجیہات ہیں، لہٰذا مختلف قسم کی تاویلات کرنے کے بجائے اگر نص کو اس کے ظاہر پر محمول کر لیں کہ یہ سورت تلاوت اور ثواب کے لحاظ سے ثلث (تہائی قرآن) کے برابر ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعید نہیں۔ واللہ اعلم۔ (۲) ’’ایک آدمی نے ایک آدمی کو سنا‘‘ پڑھنے والے حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہما تھے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ قتادہ رضی اللہ عنہ نے رات کا قیام کیا اور ساری رات (قل ھو اللہ احد) پڑھتے رہے، اس سے زیادہ کچھ نہ پڑھا۔ (مسند احمد: ۱۵/۳) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ممکن ہے سننے والے ابو سعید ہی ہوں، اس لیے کہ یہ ان کے اخیافی بھائی تھے اور ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے اور یہی بات ابن عبدالبر نے بالجزم کہی ہے۔ گویا کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنا اور اپنے بھائی کا نام پوشیدہ رکھا۔ (فتح الباری: ۷۸/۹، تحت حدیث: ۵۰۱۳) لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو سامع قرار دینا محل نظر ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے بھائی قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی رات کے قیام میں (قل ھو اللہ احد) ہی پڑھتا رہا، جب ہم نے صبح کی تو ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور رات کا سارا ماجرا سنایا۔ گویا کہ اس آدمی نے اس قراءت کو کم سمجھا…… تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، فضائل القرآن، حدیث: ۵۰۱۴) اس روایت سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ سننے والے ابوسعید نہیں تھے۔ ہاں، البتہ پڑھنے والے قتادہ رضی اللہ عنہ ہوسکتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ (۳) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کا ہاتھ ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔