سنن النسائي - حدیث 985

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ الْقِرَاءَةُ فِي الْمَغْرِبِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلَّا قَرَأْتَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 985

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: مغرب کی نماز میں (سبح اسم ربک الاعلی) پڑھنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک انصاری آدمی اپنے پانی ڈھونے والے دو اونٹوں کے ساتھ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا جب کہ وہ مرب کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے سورہ بقرہ شروع کرلی۔ وہ آدمی (اکیلا) نماز پڑھ کر چلا گیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم فتنہ باز ہو؟ اے معاذ! کیا تم لوگوں کو آزمائش میں ڈال رہے ہو؟ تم نے کیوں نہ (سبح اسم ربک الاعلی) اور (والشمس وضحھا) اور ان جیسی دوسری سورتیں پڑھیں؟‘‘ (۱)صحیح بخاری (حدیث: ۷۰۱) میں عشاء کی نماز کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یا تو اسے تعدد واقعات پر محمول کیا جائے گا، یعنی مغرب اور عشاء دونوں نمازوں میں یہ واقعہ ہوا، یا عشاء کی نماز کے لیے مغرب کا لفظ مجاراً بول دیا گیا (کیونکہ یہ دونوں رات کی نمازیں ہیں جیسے احادیث میں عشاء اولی اور عشاء آخرہ کے لفظ ملتے ہیں)۔ ورنہ جو صحیح بخاری میں ہے، وہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ دیکھیے: (فتح الباری: ۲۵۱/۲، تحت حدیث: ۷۰۱) (۲) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مفترض (فرض پڑھنے والا) متنفل (نفل پڑھنے والا) کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے، یعنی امام متنفل ہو اور مقتدی مفترض کیونکہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ کر آتے تھے، پھر اپنی قوم کو آکر پڑھاتے تھے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی نماز نفل ہوتی تھی۔ (۳) کسی عذر کی بنا پر مقتدی نماز سے نکل سکتا ہے۔ (۴) مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا مستحب ہے۔ (۵) جب مسجد میں جماعت ہو رہی ہو تو کسی شرعی عذر کی وجہ سے کوئی آدمی اکیلا نماز پڑھ لے تو جائز ہے۔