سنن النسائي - حدیث 978

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ الْقِرَاءَةُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 978

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں (سورۂ فاتحہ کے علاوہ) قراءت حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورٔ فاتحہ کے علاوہ دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سور ہ فاتحہ پڑھتے۔ اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیتے تھے۔ اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔ فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ مزید سورت ملائی جاتی ہے مگر آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ کافی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ ہر کعت میں پڑھنا ضروری ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔ لیکن احناف کے نزدیک آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری نہیں بلکہ نمازی کو اختیار ہے، چاہے قراءت کرلے یا تسبیح و تحمید کرے یا خاموش کھڑا رہے۔ لیکن جمہور کا مذہب راجح اور سنت صحیحہ کے مطابق ہے۔ مزید دیکھیے: (شرح صحیح مسلم للنوی: ۲۳۲/۴، تحت حدیث: ۴۵۱) بعض روایات میں آخری دو رکعتوں میں بھی سورت پڑھنے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ جائز ہے، ضروری نہیں۔ واللہ اعلم۔