سنن النسائي - حدیث 96

صِفَةُ الْوُضُوءِ عَدَدُ غَسْلِ الْيَدَيْنِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ وَهُوَ ابْنُ قَيْسٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ طُهُورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 96

کتاب: وضو کا طریقہ بازو کتنی دفعہ دھوئے جائیں؟ حضرت ابوحیہ بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کا پغاز کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو دھویا حتی کہ انھیں اچھی طرح اف کیا، پھر تین دفعہ کلی کی اور پھر تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور تین تین دفعہ اپنے بازو دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں سمیت اپنے پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو سے بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پیا، پھر فرمایا، میں نے اچھا سمجھا کہ تمھیں دکھاؤں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟ (۱) ’’وضو کا پانی کھڑے ہوکر پیا‘‘ بعض اہل علم وضو وغیرہ کا بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پینا مسنون سمجھتے ہیں جب کہ بعض علماء سمجھتے ہیں کہ کھڑے ہوکر پینا صرف بیان جواز کے لیے تھا، اسے عادت نہ بنایا جائے۔ اور جن احادیث میں کھڑے ہوکر پانی پینے سے سختی سے روکا گیا ہے تو وہ اس نہی (ممانعتض کو تنزیہہ پر محمول کرتے ہیں، یعنی بہتر ہے کہ بیٹھ کر پیا جائے لیکن اگر کبھی کبھار کھڑے کھڑے بھی پانی پی لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ بھی جائز ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ بیان جواز سے ان کی یہی مراد ہے۔ (۲) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس مسئلے میں وارد مختلف متعارض احادیث کا جائزہ لیتے ہوئے فرماتے ہیں: [بل الصواب أن النھي فیھا محمول علی التنزیہ و شربہ قائما لبیان الجواز] ’’درست بات یہ ہے کہ ان احادیث میں موجود ممانعت تنزیہہ پر محمول ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑے ہوکر پانی پینا بیان جواز کے لیے تھا۔‘‘ دیکھیے: (فتح الباري: ۱۰۴/۱۰، تحت حدیث: ۵۶۱۷) واللہ أعلم۔