سنن النسائي - حدیث 938

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ جَامِعُ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا عَلَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِيَ اقْرَأْ فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 938

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: قرآن مجید کا بیان حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۂ فرقان ایسے الفاظ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا جن کے ساتھ میں نہیں پڑھتا تھا، حالانکہ یہ سورت مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں جلد بازی کرتے ہوئے انھیں فوراً (نماز ہی میں) پکڑ لیتا مگر میں نے صبر کیا حتی کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں انھی کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے انھیں سورۂ فرقان اس (قراءت) سے مختلف الفاظ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی۔ آپ نے فرمایا: ’’پڑھو۔‘‘ انھوں نے وہی پڑھا جو میں نے انھیں پڑھتے سنا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’اسی طرح اتاری گئی ہے۔‘‘ پھر مجھ سے فرمایا: ’’تم پڑھو۔‘‘ میں نے پڑھا تو بھی آپ نے فرمایا: ’’اسی طرح اتاری گئی ہے۔ یہ قرآن سات لہجوں میں اتارا گیا ہے، چنانچہ جو آسان ہو، پڑھو۔‘‘ (۱)[سبعۃ احرف] کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ (۲) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دین کے معاملے میں کس قدر سخت تھے جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ قریب تھا کہ میں جلد بازی کرتے ہوئے انھیں نماز ہی میں پکڑ لیتا۔ (۳) مجرم کو گلے سے پکڑنا جائز ہے جبکہ اس کے بھاگنے کا خدشہ ہو۔ (۴) اس امت پر اللہ تعالیٰ کی عنایت و مہربانی کا بیان ہے کہ اللہ نے اس امت کی آسانی کے لیے قرآن کریم سات قراءتوں میں نازل فرمایاہے۔