سنن النسائي - حدیث 906

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ قِرَاءَةُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ضعيف الإسناد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ فَقَالَ النَّاسُ آمِينَ وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا قَامَ مِنْ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 906

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھنے کا بیان حضرت نعیم مجمر فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھی، پھر سورت فاتحہ پڑھی حتی کہ جب (غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین) پر پہنچے تو آمین کہی۔ لوگوں نے بھی آمین کہی۔ اور جب وہ سجدہ کو جاتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم سب سے بڑھ کر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں۔ (۱)اس روایت سے معلوم ہوا کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) جہری نماز میں اونچی پڑھی جائے گی مگر ضروری نہیں کیونکہ آہستہ پڑھنے کی روایتیں زیادہ اور صحت کے اعتبار سے قوی ہیں۔ اگرچہ یہ روایت بھی صحیح ہے، لیکن کبھی کبھی (بسم اللہ الرحمن الرحیم) اونچی آواز میں پڑھنے پر محمول کی جائے گی اور معمول آہست پڑھنے ہی کا ہوگا تاکہ سب روایات پر ان کی حیثیت کے مطابق عمل ہوجائے۔ (۲)مزید معلوم ہوا کہ (جہری نماز میں) امام اور مقتدیوں کا بلند آواز سے آمین کہنا سنت ہے اور صحابہ کے دور مبارک میں اسی پر عمل تھا۔