سنن النسائي - حدیث 881

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ بَاب رَفْعُ الْيَدَيْنِ حِيَالَ الْأُذُنَيْن صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 881

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: کانوں کے برابر ہاتھ اٹھانا (رفع الیدین کرنا) حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ فرماتےاور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو بھی رفع الیدین کرتے)۔ (۱)معلوم ہوا کہ رفع الیدین رکوع میں جانے سےپہلے قیام کی حالت میں کرنا چاہیے نہ کہ جاتے ہوئے۔ اسی طرح جب سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو پھر رفع الیدین کرنا چاہیے، نہ کہ سراٹھاتے ہوئے۔ گویا رفع الیدین قیام کی حالت ہی میں ہونا چاہیے۔ (۲)حضرت وائلبن حجر اور مالک بن حویرث رضی اللہ عنہم دونوں صحابی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے آخر میں مسلمان ہوئے ہیں، دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور دونوں ہی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین کرنے کی احادیث بیان کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ درست نہیں، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل ہے۔