سنن النسائي - حدیث 875

كِتَابُ الْإِمَامَةِ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْعَصْرِ وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ فِي ذَلِكَ سكت عنه الشيخ الألباني أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّكُمْ يُطِيقُ ذَلِكَ قُلْنَا إِنْ لَمْ نُطِقْهُ سَمِعْنَا قَالَ كَانَ إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا كَانَتْ مِنْ هَا هُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا ثِنْتَيْنِ وَيُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِتَسْلِيمٍ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 875

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: عصر سے پہلے (نفل) نماز اور اس مسئلے کے متعلق ابو اسحاق سے ناقلین کے اختلاف کا ذکر حضرت عاصم بن ضمرہ نے کہا کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: اگر ہم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم سن تو لیں۔ آپ نے فرمایا: جب سورج اس (مشرق کی) طرف اتنا اونچا ہوتا جتنا کہ وہ اس (مغرب کی) طرف میں عصر کے وقت ہوتا ہے تو آپ دو رکعتیں پڑھتے۔ اور جب سورج اس (مشرق کی) طرف اتنا ہوتا جتنا وہ اس (مغرب کی) طرف ظہر کے وقت ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے۔ اور ظہر سے پہلے چار رکعت اور بعد میں دو رکعت پڑھتے۔ اور عصر سے پہلے اس طرح چار رکعت پڑھتے کہ ہر دو رکعت کے بعد (تشہد میں) مقرب فرشتوں، انبیاء اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں پر سلام پڑھتے۔ (۱)پہلی نفل نماز سے مراد صلاۃ ضحیٰ (چاشت کی نماز) ہے۔ اگر سورج کے بقدر نیز یا دو نیزے ہونے پر یہ نماز پڑھی جائے تو اسے صلاۃ اشراق کہتے ہیں۔ بہرحال صلاۃ اشراق، صلاۃ ضحیٰ اور صلاۃ الاوابین ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔ اور یہ نام صرف وقت کی تبدیلی کی وجہ سے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (القول المقبول، ص:۶۸۸) اور دوسری نفل نماز سے مراد سنتِ زوال ہے کیونکہ سورج کے زوال پذیر ہونے سے قبل اس کی ادائیگی ہوتی ہے۔ (۲)اس سلام سے مراد تشہد کے دوران میں [السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین] ’’ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔‘‘ پڑھنا ہے، نہ کہ فراغت والا سلام۔ اور فرشتے، انبیاء اور دیگر کا ذکر صالحین کی تفسیر ہے۔