سنن النسائي - حدیث 872

كِتَابُ الْإِمَامَةِ الرُّكُوعُ دُونَ الصَّفِّ صحيح أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 872

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع کرنا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (ایک دفعہ) مسجد میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے، چنانچہ انھوں نے صف سے پیچھے ہی رکوع کرلیا۔ (اور رکوع ہی کی حالت میں چل کر صف میں پہنچے۔) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز کے بعد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تمھاری (نیکی کی) حرص میں اضافہ فرمائے لیکن دوبارہ ایسے نہ کرنا۔‘‘ (۱)حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے اس طرح کرنے میں نماز کے اندر چلنا پڑتا ہے جو نماز کے منافی ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں۔ (۲)اس روایت سے رکوع کی رکعت پر استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو خدشہ تھا کہ اگر رکوع ختم ہوگیا تو میں رکعت نہ پاسکوں گا، تبھی انھوں نے یہ انداز اختیارکیا۔ مگر یہ استدلال اتنا قوی نہیں ہے، نیز کوئی صراحت نہیں کہ انھوں نے اٹھ کر وہ رکعت پڑھی تھی یا نہیں۔ اس مسئلے میں یہ روایت مبہم ہے۔ استدلال واضح ہونا چاہیے۔ فتح الباری میں طبرانی کے حوالے سے حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ [صل ما ادرکت واقض ماسبقک] ’’جو مل جائے پڑھو اور جو نکل جائے اسے پورا کرو۔‘‘ (فتح الباری:۲؍۳۴۸، شرح حدیث: ۷۸۳) حدیث کا مذکورہ قطعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی آتا ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، المساجد، حدیث:۶۰۲) اور ظاہر ہے کہ انھیں صرف رکوع ہی ملا تھا، قیام تو ان سے رہ گیا تھا۔ اس پس منظر میں اس حکم کا صاف مقصد یہ ہے کہ صرف رکوع ملے تو وہ رکعت شمار نہ ہوگی۔