سنن النسائي - حدیث 87

صِفَةُ الْوُضُوءِ الْمُبَالَغَةُ فِي الِاسْتِنْشَاقِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْوُضُوءِ قَالَ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 87

کتاب: وضو کا طریقہ ناک میں خوب زور سے پانی کھینچنا حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے (صحیح طریقے) کے بارے میں بتائیں۔ آپ نے فرمایا: ’’اعضائے وضو کو مکمل (اچھی طرح) دھو اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کر، سوائے اس کے کہ تو روزے سے ہو۔‘‘ (۱) استنشاق کا مقصد ناک کی صفائی ہے اوری ہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ناک کے آخری سرے تک پانی نہ پہنچایا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سانس کو پانی کے ساتھ زور سے کھینچا جائے، البتہ روزے کی حالت میں زیادہ زور لگانے سے خدشہ ہے کہ پانی حلق میں چلا جائے گا، لہٰذا روزے کی حالت میں احتیاط رکھے اور کم زور لگائے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ اگر استنشاق کے دوران میں پانی حلق میں چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ احناف و موالک کا یہی مذہب ہے مگر امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک خطا معاف ہے اور روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ تاہم راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر سہواً یا نسیاناً استنشاق کے دوران میں پانی حلق میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ سہو اور نسیان معاف ہے، البتہ اگر جانتے بوجھتے اشتنشاق کے دوران پانی حلق میں اتر جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ واللہ أعلم۔