سنن النسائي - حدیث 866

كِتَابُ الْإِمَامَةِ مَا يُكْرَهُ مِنْ الصَّلَاةِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 866

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: اقامت کے وقت نماز (نفل وغیرہ پڑھنے) کی کراہت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب نماز کی اقامت ہوجائے تو اس (باجماعت) فرض کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں۔‘‘ جب کسی فرض نماز کی اقامت ہوجائے تو کوئی نفل یا کوئی فرض نماز شروع نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ جماعت کے اصول کے خلاف ہے اور اس سے جماعت کی اہمیت ختم ہوجائے گی، البتہ اگر کوئی شخص پہلے سے سنتیں وغیرہ پڑھ رہا ہے اور اسے جاری رکھنے میں فرض سے کچھ بھی فوت ہونے کا اندیشہ نہیں ہے (جیسے وہ تشہد میں ہو) تو علماء کی ایک رائے کے مطابق وہ نماز جاری رکھے اور جلد مکمل کرنے کی کوشش کرے تاکہ فرض نماز باجماعت پڑھ سکے۔ اگر اسے خطرہ ہے کہ جاری رکھنے کی صورت میں کچھ فرض نماز جماعت سے رہ جائے گی یا کوئی رکعت فوت ہوجائے گی تو نماز منقطع کردے اور جماعت کے ساتھ مل جائے جبکہ بہتر یہ ہے کہ جونہی اقامت شروع ہو، نماز ترک کردی جائے،خواہ نماز کے کسی بھی مرحلے میں ہو کیونکہ [فلا صلاۃ] کی واضح نص سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے شمار نہیں کیاجاتا اگرچہ بزعم خویش نماز جاری رکھے ہو۔