سنن النسائي - حدیث 862

كِتَابُ الْإِمَامَةِ السَّعْيُ إِلَى الصَّلَاةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 862

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: نماز کے لیے دوڑنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ سکون اور وقار کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ۔ جو نماز جماعت کے ساتھ مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے بعد میں پوری کرلو۔‘‘ (۱)نماز کی طرف دوڑ کر آنا سنجیدگی کے خلاف ہے، بے ادبی ہے، مسجد کی حرمت کے خلاف ہے۔ رب العالمین کے حضور حاضری معمولی بات نہیں۔ اس میں کامل سکون اور وقار چاہیے۔ عام معاملات میں بھی جلدبازی نامناسب ہے۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے کیونکہ اس میں عام طور پر جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے۔ عزت کا نقصان تو ہے ہی۔ (۲)جو نماز امام کےساتھ مل جائے، وہ اتبدائے نماز ہے یا امام والی؟ اس میں اختلاف ہے، یعنی مقتدی کی وہ کون سی رکعتیں شمار ہوں گی؟ پہلی شمار ہوں گی تو وہ بقیہ رکعتیں آخری رکعتوں کی طرح پڑھے گا اور اگر امام کی ترتیب کے حساب سے شمار ہوں گی تو بقیہ رکعتیں وہ ابتدائی رکعتوں کی طرح پڑھے گا۔ شوافع پہلی اور احناف دوسری بات کے قائل ہیں۔ دونوں طرف دلائل ہیں۔ اس حدیث کے آخری لفظ [فاقضوا] امام شافعی رحمہ اللہ کے مؤید ہیں اور یہی راجح ہے۔ واللہ اعلم۔ نیز اکثر روایات میں [فاتموا] کے الفاظ وارد ہیں جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مقتدی جہاں سے آغاز کرے گا، وہی اس کی ابتدائے نماز ہوگی۔ جو رہ چکی ہوگی، بعد میں اس کی تکمیل کرے گا، لہٰذا بعض احادیث میں منقول الفاظ [فاقضوا] کے معنی بھی یہی ہوں گے، یعنی جو نماز رہ چکی ہو، اسے بعد میں ادا کرلیا جائے۔ واللہ اعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی ، شرح سنن النسائی:۱۰؍۳۵۵)