سنن النسائي - حدیث 858

كِتَابُ الْإِمَامَةِ إِعَادَةُ الصَّلَاةِ مَعَ الْجَمَاعَةِ بَعْدَ صَلَاةِ الرَّجُلِ لِنَفْسِهِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ عَنْ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 858

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ لے تو جماعت ملنے کی صورت میں دوبارہ پڑھنا حضرت محجن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے کہ نماز کی اذان کہی گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، پھر (نماز پڑھ کر) واپس تشریف لائے تو (دیکھا کہ) محجن اپنی جگہ ہی میں بیٹھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھیں نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ کیا تم مسلمان آدمی نہیں ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں گھر میں نماز پڑھ آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مسجد میں آؤ (اور جماعت مل جائے) تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو، اگرچہ تم (اکیلے) نماز پڑھ چکے ہو۔‘‘ (۱)معلوم ہوا اکیلے آدمی کی نماز بھی ہوجاتی ہے، چاہے گھر ہی میں پڑھ لے، بشرطیکہ کوئی عذر ہو، وگرنہ بلاعذر نماز باجماعت ترک کرنا گناہ ہے، نیز جماعت شرط نہیں ہے جیسا کہ اہل ظاہر کا موقف ہے، بہرحال عذر کی صورت میں معمول کے مطابق اجر ملتا ہے۔ (۲)اگرا نسان اکیلا نماز پڑھ لے یہ سمجھ کر کہ جماعت نہ ملے گی یا جماعت ہوچکی ہے یا شاید میں مسجد میں نہ جاسکوں وغیرہ، پھر وہ مسجد میں آئے اور نماز باجماعت مل جائے تو اسے نماز باجماعت دہرانی چاہیے تاکہ جماعت کا ثواب مل جائے۔ احناف تین نمازوں کو دوبارہ پڑھنا جائز نہیں سمجھتے۔ مغرب، فجر اور عصر کیونکہ بعد میں پڑھی جانے والی نماز نفل ہوگی۔ فجر اور عصر کے بعد نفل جائز نہیں۔ مغرب دوبارہ پڑھنے کی صورت میں تین نفل بن جائیں گے اور نفل تین ہوتے، حالانکہ یہ خاص حکم ہے۔ عصر اور فجر کے بعد نفل کی ممانعت عام ہے۔ عام کو خاص سے مقید کیا جاسکتا ہے۔ باقی رہے تین نفل تو شریعت کا حکم آجانے کے بعد ممانعت جاتی رہی، نیز اگر ان نمازوں کا دہرانا منع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صراحت فرماتے کیونکہ اکثر کا استثنا مناسب نہیں۔ اگر صرف دو نمازیں ہی دہرانی ضروری یا جائز ہوتیں تو صرف ان دو نمازوں ہی کا نام لے لیتے کیونکہ یہاں وضاحت ضروری تھی۔ غلط فہمی کا امکان تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضاحت نہ فرمانا دلیل ہے کہ ہر نماز دہرائی جاسکتی ہے۔ یہ خاص حکم ہے۔ اسے عام پر ترجیح ہوگی۔