سنن النسائي - حدیث 830

كِتَابُ الْإِمَامَةِ مُبَادَرَةُ الْإِمَامِ صحيح أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَخْطُبُ قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ سَاجِدًا ثُمَّ سَجَدُوا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 830

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: امام سے آگے بڑھنا حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اور وہ جھوٹے نہ تھے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو صحابہ کھڑے رہتے حتی کہ آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں تو پھر سجدہ کرتے۔ ہوسکتا ہے امام صاحب بزرگ ہوں یا انھیں کوئی تکلیف ہو جس کی وجہ سے انھیں سجدے تک جاتے جاتے دیر لگ جائے۔ اگر مقتدی ان کے سر جھکاتے ہی سجدے میں جانا شروع کر دیں تو ممکن ہے تیز رفتار یا نوجوان مقتدی ان سے پہلے سجدے میں پہنچ جائیں اس لیے ضروری ہے کہ مقتدی اس وقت سجدے کے لیے جھکیں جب امام صاحب سجدے میں سرزمین پر رکھ لیں۔ اس طرح رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت بھی انتظار کیا جائے کہ امام صاحب سیدھے کھڑے ہو جائیں پھر مقتدی اٹھنا شروع کریں تاکہ امام سے آگے بڑھنے کا امکان بھی نہ رہے۔