سنن النسائي - حدیث 820

كِتَابُ الْإِمَامَةِ مَنْ وَصَلَ صَفًّا صحيح أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 820

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: جو صف کو ملائے (اس کی فضیلت) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی صف کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اسے (اپنے ساتھ) ملائے گا اور جو صف کو کاٹے (توڑے) گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے (توڑے) گا۔ جوڑنے توڑنے کا مطلب اپنی رحمت سے جوڑنا یا توڑنا ہے اور صف کو جوڑنے سے مراد خالی جگہ پر کرنا ہے۔ ہوسکتا ہے نماز کے دوران میں کسی شخص کو نکلنے کی ضرورت پڑ جائے تو اس کے نکلنے کے بعد صف کو ملایا جائے۔ درمیان میں خالی جگہ نہ چھوڑی جائے۔ یاد رہے! صف امام کی طرف ملائی جاتی ہے۔ امام کی دائیں طرف والے بائیں طرف کو ملیں گے اور بائیں طرف والے دائیں طرف کو۔ صف کو ملانے کے لیے بہت سے نمازیوں کو حرکت کرنی پڑے گی مگر صف کی درستی یا نماز کی اصلاح کے لیے جو حرکت بھی کرنی پڑے ضروری ہے۔ صف کو توڑنے کا مطلب ہے کہ فاصلہ چھوڑ کر کھڑے ہونا یا اگر صف میں گنجائش موجود ہو تو وہاں کھڑے ہونے سے کسی کو روکنا جبکہ کسی ضرر کا اندیشہ بھی نہ ہو یا نماز باجماعت کے دوران میں صف کے درمیان فارغ بیٹھے رہنا۔