سنن النسائي - حدیث 812

كِتَابُ الْإِمَامَةِ كَيْفَ يُقَوِّمُ الْإِمَامُ الصُّفُوفَ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 812

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: امام صفوں کو کیسے سیدھا کرے؟ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تکبیر تحریمہ کہنے سے پبل) ایک سرے سے دوسرے سرے تک صفوں کے درمیان چلا کرتے تھے۔ ہمارے کندھوں اور سینوں کو ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے اور فرماتے تھے: آگے پیچھے کھڑے نہ ہو ورنہ تمھارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہو جائیں گے (ان میں پھوٹ پڑ جائے گی)۔ اور فرماتے تھے: تحقیق اللہ تعالیٰ اگلی صفوں کے لیے خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اور اس کے فرشتے ان کے لیے خصوصی رحمتیں طلب کرتے ہیں۔ (۱) امام کا فرض ہے کہ صفوں کو درست کرے۔ اگرچہ آج کل ایک ہی سائز کی صفیں بچھی ہوتی ہیں اور پالین وغیرہ پر لائنیں لگی ہوتی ہیں جن کی مدد سے صف سیدھی کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر پھر بھی جہالت اور سستی کی بنا پر صفیں سیدھی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ (۲) اگلی صفوں سے مراد ہر مسجد اور جماعت کی اگلی صف ہے۔ مساجد کی کثرت کی بنا پر جمع کا لفظ ذکرکیا ورنہ مراد صرف اگلی صف ہے۔ یا ایک سے زائد اگلی صفیں مراد ہوسکتی ہیں۔