سنن النسائي - حدیث 796

كِتَابُ الْإِمَامَةِ الِائْتِمَامُ بِمَنْ يَأْتَمُّ بِالْإِمَامِ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 796

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: ان کی اقتدا کرنا جو امام کی اقتدا کریں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ کے اصحاب کچھ پیچھے پیچھے رہتے ہیں (صف اول میں شریک نہیں ہوتے)۔ آپ نے فرمایا: آگے بڑھو (صف اول میں کھڑے ہوا کرو) اور میری اقتدا کیا کرو۔ تم سے پیچھے کھڑے ہونے والے تمھاری اقتدا کریں گے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو (اگلی صفوں سے) پیچھے ہی رہتے ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ بھی انھیں (اپنی رحمت اپنے فضل اور لندیٔ درجات وغیرہ میں) پیچھے کر دیتا ہے۔ پہلی صف امام کو دیکھ اور سن کر اس کی اقتدا کرے۔ دوسری صف پہلی صف کو دیکھ کر ان کی اقتدا کرے۔ اس طرح آخری صف تک۔ یہ نظم و ضبط کی بہترین صورت ہے۔ اگر صرف آواز سن کر اقتدا کی جائے تو اس سے بسا اوقات امام سے پہل بھی ہو جاتی ہے اور بدنظمی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے اس لیے آپ نے سمجھ دار لوگوں کے لیے ہدایت فرمائی کہ تم میرے قریب کھڑے ہوا کرو تاکہ میری صحیح اقتدا ہوسکے۔ اس جملے کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تم اچھی طرح مجھ سے تربیت حاصل کرو تاکہ بعد میں آنے والے لوگ (تابعین) تمھاری اقتدا کریں۔