سنن النسائي - حدیث 793

كِتَابُ الْإِمَامَةِ الْإِمَامُ يَذْكُرُ بَعْدَ قِيَامِهِ فِي مُصَلَّاهُ أَنَّهُ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَالْوَلِيدُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ مَكَانَكُمْ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطِفَ رَأْسُهُ فَاغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 793

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: امام کو اپنی نماز کی جگہ کھڑے ہونے کے بعد یاد آئے کہ وہ طہارت کی حالت میں نہیں تو……؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز کی اقامت ہوگئی لوگوں نے صفیں درست کرلیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے حتی کہ جب آپ اپنے مصلے پر کھڑے ہوگئے تو آپ کو یاد آیا کہ میں نے (فرض) غسل نہیں کیا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا: اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر آپ گھر تشریف لے گئے۔ واپس لوٹے تو آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ (یعنی غسل فرما کر آئے تھے۔) جب کہ ہم اسی طرح صفوں میں کھڑے رہے۔ ایسا واقعہ کبھی کبھار ہوسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آج کل بھی امام لوگوں کو صفوں میں کھڑا کرکے نہانے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہی اور تھی۔ آپ کے انتظار میں تو لوگ آدھی آدھی رات تک بیٹھے رہتے تھے۔ اگر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو امام اپنی جگہ کسی کو کھڑا کرکے جماعت شروع کروائے اور خود چلا جائے۔ [أنزلوا الناس منازلھم] یعنی ہر شخص کے ساتھ اس کے مقام و مرتبہ کے مطابق پیش آنا چاہیے۔ بالفرپ اگر کسی امام کے مقتدی بخوشی اس کا انتظار کریں یا کوئی اور جماعت کے قابل نہ ہو تو مندرجہ بالا صورت پر عمل کیا جا سکتا ہے۔