سنن النسائي - حدیث 780

كِتَابُ الْإِمَامَةِ الصَّلَاةُ مَعَ أَئِمَّةِ الْجَوْرِ حسن صحيح أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَصَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 780

کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل باب: ظالم ائمہ (حکام) کے پیچھے نماز پڑھنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شاید تم ایسے لوگوں کو پاؤ جو بے وقت نماز پڑھیں گے۔ اگر تم پر ایسا دور آ جائے تو نماز وقت پر پڑھ لیا کرنا، پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لینا اور اسے نفل سمجھ لینا۔‘‘ (۱) ثابت ہوا کہ اگر امام میں کوئی خرابی ہو تو مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی۔ امام کی کمی بیشی کا سوال اس سے ہوگا، لہٰذا کسی امام کے پیچھے اس بنا پر نماز پڑھنے سے انکار نہ کیا جائے کہ اس میں فلاں خرابی یا عیب ہے۔ عیوب سے مزہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات اقدس ہے۔ (۲) اگر ایک دفعہ وقت پر نماز پڑھ لی جائے، پھر جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے یا فتنے سے بچنے کے لیے دوبارہ پڑھنی پڑےتو دوسری نماز نفل ہوگی، فرض پہلی ہوگی۔ ظالم اور فاسق کی امامت کے متعلق مزید تفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائیہ دیکھیے۔