سنن النسائي - حدیث 771

كِتَابُ الْقِبْلَةِ الصَّلَاةُ فِي الْحَرِيرِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ عَنْ اللَّيْثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ثُمَّ قَالَ لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 771

کتاب: قبلے سے متعلق احکام و مسائل ریشم کے کپڑے میں نماز پڑھنا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشم کی اچکن، یعنی شیروانی سے ملتا جلتا لباس تحفے میں دیا گیا۔ آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی۔ سلام پھیرا تو اسے بڑی تیزی اور سختی سے اتار دیا، گویا کہ آپ اسے ناپسند فرما رہے ہیں، پھر فرمایا: ’’یہ پرہیزگاروں کے لیے جائز نہیں۔‘‘ ریشم پہننا مرد کے لیے ناجائز ہے۔ اس میں نماز پڑھنا بدرجۂ اولیٰ ناپسندیدہ ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت سے قبل پہنی ہوگی۔ پھر ناپسندیدگی کی وجہ سے اتاری۔ یہ نہیں کہ حرام ہونے کے بعد پہنی یا اتاری۔ آپ کے یہ الفاظ: [لا ینبغی ھذا للمتقین] بھی دلیل ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب ریشم حرام نہ ہوا تھا۔ حرمت کے بعد تو متقی اور غیرمتقی برابر ہیں، البتہ ریشم میں پڑھی ہوئی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ نماز کے اندر کوئی خرابی نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی شرط یا رکن مفقود ہوا۔ ریشم کا حرام ہونا نماز سے الگ مسئلہ ہے، گویا ریشم پہننے کا گناہ الگ ہے اور نماز کی صحت ایک الگ چیز ہے۔