سنن النسائي - حدیث 768

كِتَابُ الْقِبْلَةِ الصَّلَاةُ فِي الْإِزَارِ صحيح أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّهُ قَالَ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ قَالَ فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَبِي أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 768

کتاب: قبلے سے متعلق احکام و مسائل ازار میں نماز پڑھنا حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میری قوم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹے تو انھوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا تھا: ’’تمھاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوا ہو۔‘‘ تو انھوں نے مجھے بلایا (کیونکہ مجھے زیادہ قرآن یاد تھا) اور مجھےرکوع اور سجدے کا طریقہ سکھایا تو میں انھیں نماز پڑھایا کرتا تھا اور مجھ پر ایک پھٹی ہوئی چادر تھی۔ لوگ میرے والد سے کہتے تھے: کیا تم ہماری نظروں سے اپنے بیٹے کی شرم گاہ نہیں ڈھانپ سکتے؟ (۱) ابوداود کی ایک روایت میں ہے کہ سجدہ کرتے وقت بے پردگی ہوتی تھی۔ (سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: ۵۸۶) (۲) عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بچے تھے۔ سات سال کی عمر تھی، لیکن یہ قبیلہ قافلوں کی گزرگاہ پر واقع تھا، اس لیے آنے جانے والے لوگوں سے قرآن مجید کی بہت سی آیات اور سورتیں حفظ کرچکے تھے۔ باقی لوگ اس سعادت سے محروم رہے۔ چونکہ عمروو بن سلمہ بچے تھے، اس لیے انھیں نماز کا طریقہ سکھایا گیا۔ (۳) دیر روایات میں ہے کہ پھر قبیلے کے لوگوں نے مشترکہ رقم سے کپڑا خرید کر مجھے ایک لمبی قمیص بنوا دی جس سے میں بہت خوش ہوا۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، المغازي، حدیث: ۴۳۰۲)