سنن النسائي - حدیث 760

كِتَابُ الْقِبْلَةِ الرُّخْصَةُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ النَّائِمِ صحيح أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 760

کتاب: قبلے سے متعلق احکام و مسائل سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے اور قبلے کے درمیان آپ کے بستر پر عرض کے رخ لیٹی ہوتی تھی۔ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے جگا دیتے اور میں وتر پڑھ لیتی۔ جگہ کی تنگی کے پیش نظر ایسا ہوتا ہوگا ورنہ بہتر تو یہی ے کہ سجدہ گاہ تک کوئی چیز سامنے نہ ہو کیونکہ اس سے خیالات منتشر ہوں گے مگر چونکہ یہ رات کا وقت ہوتا تھا، کچھ نظر نہ آتا تھا، لہٰذا کوئی حرج نہیں۔ دن کے وقت بھی اگر اس قسم کی صورت پیش آ جائے، تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہاگر شرعاً کوئی قباحت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا قطعاً نہ کرتے۔ واللہ أعلم۔