سنن النسائي - حدیث 740

كِتَابُ الْمَسَاجِدِ الصَّلَاةُ عَلَى الْمِنْبَرِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدْ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأُرْسِلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 740

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل منبر پر نماز پڑھنا حضرت ابوحازم بن دینار سے مروی ہے کہ کچھ آدمی حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ دراصل ان کا اختلاف ہوگیا تھا کہ منبر کس لکڑی سے بنا تھا؟ تو انھوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ منبر نبوی کس لکڑی سے بنا تھا۔ میں نے اسے اسی دن دیکھا تھا جس دن وہ پہلی مرتبہ رکھا گیا تھا اور جب پہلی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کو، جس کا سہل نے نام لیا تھا، پیغام بھیجا: ’’اپنے بڑھئی غلام سے کہہ کہ وہ میرے لیے منبر تیار کرے تاکہ میں جب لوگوں سے بات چیت کروں تو اس پر بیٹھا کروں۔‘‘ اس عورت نے غلام کو حکم دیا تو اس نے مقام غابہ کے جھاؤ کے درخت سے منبر تیار کیا، پھراسے وہ لے کر (اس عورت کے پاس) آیا تو اس عورت نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ آپ نے حکم دیا تو اسے اس جگہ رکھ دیا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اس پر چڑھے اور نماز شروع کی، آپ نے منبر ہی پر تکبیر تحریمہ کہی، منبر ہی پر رکوع کیا، پھر پچھلے پاؤں نیچے اتارے اور منبر ہی سے متصل ہوکر سجدہ کیا، پھر دوبارہ منبر پر چڑھ گئے۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرسکو اور میری نماز (کا طریقہ) سیکھ لو۔‘‘ (۱) یہ نفل نماز تھی اور نفل نماز میں کافی وسعت ہوتی ہے۔ اگرچہ منبر نماز کے لیے نہیں بنایا گیا تھا مگر آپ نے مناسب خیال فرمایا کہ اس کا افتتاح نماز سکھانے سے ہو۔ اس کا یہ فائدہ مقصود تھا کہ لوگ آپ کے اونچا ہونے کی وجہ سے آپ کو بخوبی دیکھ سکیں اور نماز کا طریقہ سیکھ لیں۔ آپ نے سب سے بلند سیڑھی پر کھڑے ہو کر نماز ادا فرمائی۔ دیکھیے: (فتح الباري: ۵۱۴/۲، شرح حدیث: ۹۱۷) (۲) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کبھی رش یا جگہ کی تنگی یا ناہمواری کی وجہ سے نماز کا کوئی رکن کچھ ہٹ کر یا نیچے اتر کر یا کچھ آگے پیچھے چل کر ادا کرنا پڑے تو نفل نماز میں گنجائش ہے، البتہ فرض نماز میں اضطراری حالت کے علاوہ ایسے نہ کیا جائے۔ (۳) کہا گیا ہے کہ عورت کا نام سہلہ اور غلام کا نام میمون تھا۔ دیکھیے: (فتح الباري: ۵۱۲/۲، شرح حدیث: ۹۱۷) (۴) صحیح روایت میں صراحت ہے کہ منبر بنانے کی پیش کش اس عورت نے خود کی تھی۔ آپ نے منظوری یا یاددہانی کا پیغام بھیجا۔ (۵) سجدہ کرنے کے لیے آپ کو کئی قدم اٹھانے پڑے کیونکہ سب سے اوپر والی سیڑھی سے اتر کر نیچے آنا اور مزید پیچھے ہٹ کر منبر کی قریب ترین جگہ پر سجدہ کرنا کئی قدموں کا متقاضی ہے، لہٰذا قدموں کی درجہ بندی کرنا کہ اگر مسلسل تین قدم اٹھائیں تو نماز باطل ہو جائے گی، درست نہیں۔ اس کی بجائے عمل کو ضرورت کے ساتھ مقید کرنا چاہیے۔