سنن النسائي - حدیث 729

كِتَابُ الْمَسَاجِدِ تَخْلِيقُ الْمَسَاجِدِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْسَنَ هَذَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 729

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل مسجد کو خلوق (خوشبو) لگانا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی سامنے والی دیوار پر کھنکھار لگا دیکھا تو آپ غصے میں آگئے حتی کہ آپ کا چہرئہ انور سرخ ہوگیا۔ انصار کی ایک عورت اٹھی، اس نے کھنکھار کو کھرچا اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کیا ہی خوب ہے!‘‘ (۱) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے اسے صحیح اور بعض نے حسن قرار دیا ہے اور انھی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کیونکہ دیگر صحیح روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ دیگر روایات میں مذکور مضمون کی اس روایت سے تردید یا مخالفت بھی نہیں ہوتی، لہٰذا مذکورہ روایت قابل عمل ہے۔ مزید دیکھیے: (سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألبانی: ۱۲۰/۷، حدیث: ۳۰۵۰، و سنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: ۷۶۲) (۲) مسجد میں گند لگا ہو تو اسے کھرچ کر یا صاف کرکے خوشبو لگا دینا اچھا عمل ہے۔ خلوق ایک رنگ دار خوشبو ہے جسے عورتیں استعمال کرتی ہیں کیونکہ مرد کے لیے رنگ دار خوشبو کا استعمال منع ہے، البتہ مسجد کو یہ خوشبو لگانا جائز ہے۔