سنن النسائي - حدیث 71

ذِكْرُ الْفِطْرَةِ بَاب وُضُوءِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ جَمِيعًا صحيح أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 71

کتاب: امور فطرت کا بیان مردوں اور عورتوں کا اکٹھے وضو کرنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اور عورتیں اکٹھے وضو کر لیا کرتے تھے۔ اس باب کا مقصد یہ ہے کہ پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پانی جوٹھا نہیں ہو جاتا کہ دوسرا شخص اسے استعمال نہ کرسکے، اس لیے بیک وقت کئی افراد (مرد و عورت) ایک برتن میں ہاتھ ڈال کر وضو کرسکتے ہیں، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اگر عورت غیرمحتاط قسم کی ہو تو اس کے وضو کرنے کے بعد مرد اس پانی سے وضو نہ کرے کیونکہ وہ چھینٹوں وغیرہ سے پرہیز نہیں کرے گی۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں مرد و عورت سے مراد ایک گھر کے مرد اور عورت (میاں بیوی) ہیں نہ کہ مختلف گھروں کے غیرمحرم کیونکہ اسلام میں مرد و زن کے اختلاط کی اجازت نہیں۔ یا پھر اس حدیث میں اس وقت کا ذکر ہے جبکہ ابھی پردے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ واللہ أعلم۔ یہی رائے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے۔ دیکھیے: (فتح الباری: ۳۹۲/۱، تحت حدیث: ۱۹۳)