سنن النسائي - حدیث 698

كِتَابُ الْمَسَاجِدِ فَضْلُ مَسْجِدِ قُبَاءَ وَالصَّلَاةِ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ وَقَالَ الْآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مَسْجِدِي هَذَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 698

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل مسجد قباء اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں کا اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کی بنیاد شروع دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے۔ دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ میری مسجد (مسجد نبوی) ہے۔‘‘ اہل تفسیر کے مطابق (لمسجد اسس علی التقوی) (التوبۃ ۱۰۸:۹) سے مراد مسجد قباء ہے کیونکہ یہ شان نزول کے زیادہ موافق ہے مگر اس حدیث کی رو سے اس سے مراد مسجد نبوی ہے۔ دراصل دونوں مسجدیں ان الفاظ کا مصداق ہیں کیونکہ دونوں مسجدوں کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ہے اور ظاہر ہے دونوں کی بنیاد لازماً تقویٰ پر ہے مگر چونکہ مسجد نبوی کی باقی تعمیر بھی آپ نے فرمائی اور آپ کی باقی زندگی اسی مسجد میں گزری، اسی مسجد کو آپ کے شب و روز سے برکتیں حاصل ہوئیں، لہٰذا یہ مسجد ہی زیادہ مستحق ہے کہ اسے اس کا مصداق قرار دیا جائے، البتہ مسجد قباء کو بھی ہفتے کے بعد کچھ دیر کے لیے آپ کی زیارت اور قدم بوسی نصیب ہوتی تھی، لہٰذا اس میںبھی خیر کثیر ہے۔ تبھی تو وہاں بھی نمازیوں کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے، اگرچہ مسجد نبوی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔