سنن النسائي - حدیث 690

كِتَابُ الْمَسَاجِدِ الْمُبَاهَاةُ فِي الْمَسَاجِدِ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 690

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل فخر کے لیے مسجدیں بنانا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ قیامت کی نشانی ہے کہ لوگ مساجد میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔‘‘ نیک کام میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا مستحب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (فاستبقوا الخیرات) (البقرہ ۱۴۸:۲) ’’نیکیوں اور بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت کرو۔‘‘ اس لحاظ سے مسجد کی تعمیر ایک مستحسن عمل اور ایمان کی دلیل ہے، لیکن تعمیر مساجد میں صرف روزمرہ کی ضروریات کو مدنظر رکھنا چاہیے جو واقعی انسانی ضرورت اور فطرت کا تقاضا ہیں، یعنی موسمی تغیرات (آندھی، طوفان، گرمی اور سردی وغیرہ) سے تحفظ کے پیش نظر مساجد کی عمارتوں میں استحکام ہونا چاہیے۔ لیکن ان کی اس طرح تزئین و آرائش اور بے جا زیب و زینت نہ کی جائے جس طرح یہود و نصاریٰ کے معبد خانے ہوتےہیں۔ احادیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ دیکھیے: (سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث ۴۲۸) نیز صرف مسجدیں بنانا ہی مقصد نہ ہو بلکہ انھیں آباد کرنا اولین مقصد ہونا چاہیے وگرنہ صرف تعمیری مقابلہ بازی اور فخر و مباہات کی خاطر ان کی تعمیرات میں مبالغہ آرائی قرب قیامت کی نشانی ہے۔