سنن النسائي - حدیث 670

كِتَابُ الْأَذَانِ إِقَامَةُ كُلِّ وَاحِدٍ لِنَفْسِهِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَاحِبٍ لِي إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَحَدُكُمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 670

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل ہر ادمی اپنے لیے اقامت کہے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے ساتھی کو کہا: ’’جب نماز کا وقت آئے تو تم اذان کہو، پھر اقامت کہو، پھر تم میں سے بڑا امامت کروائے۔‘‘ ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ تم سب اذان کہو اور سب اقامت کہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اذان اور اقامت کہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: ۶۳۵، ۶۳۶) نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف اسفار میں صرف ایک ہی اذان کہلوائی ہے، نیز سفر اور حضر کا فرق بھی معتبر نہیں، حکم ایک ہی ہے، لہٰذا اس حدیث سے امام نسائی رحمہ اللہ کا ہر آدمی کے لیے اقامت کی مشروعیت کا استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ واللہ أعلم۔