سنن النسائي - حدیث 668

كِتَابُ الْأَذَانِ الْأَذَانُ لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ صحيح ، و فيه : " فتوضأ كما أمر الله ، ثم تشهد فأقم ، ثم كبر ... " أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 668

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل اکیلے نماز پڑھنے والے کی اذان حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے…… الحدیث۔ امام صاحب نے تفصیلی روایت ذکر نہیں کی۔ یہ مسییٔ الصلاۃ کی حدیث کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن اس سے استدلال واضح نہیں ہوتا۔ جبکہ سنن ابوداود کے ایک طریق میں اقامت کی تصریح موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فاقم ثم کبر……] ’’اقامت کہہ، پھر اس کے بعد تکبیر (تحریمہ) کہہ……‘‘ دیکھیے: (صحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني، رقم: ۸۰۷) نیز السنن الکبری للنسائي: (۵۰۷/۱) میں نفس اسی عنوان کے تحت مذکور حدیث میں اقامت کا ذکر موجود ہے۔ اس طرح حدیث سے امھام صاحب رحمہ اللہ کا استدلال واضح ہے کہ اکیلا شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے اگرچہ اس کے ساتھ کئوی اور نماز پڑھنے والا نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے بے شمار لشکر نماز ادا کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے: [فان اقام صلی معہ ملکاہ وان اذن و أقام صلی خلفہ من جنود اللہ مالایری طرفاۃ] ’’اگر (صرف) اقامت کہتا ہے تو اس کے ساتھ، اس کے ساتھ والے دونوں فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور اگر اذان اور اقامت کہتا ہے تو اس کے پیچھے اس قدر اللہ کے لشکر نماز پڑھتے ہیں کہ ان کی دونوں اطراف نہیں دیکھی جا سکتیں (کیونکہ صفیں بہت ذراز ہوتی ہیں)۔‘‘ دیکھیے: (صحیح الترغیب و الترھیب للألباني: ۲۹۵/۱) معلوم ہوا اکیلا آدمی اذان بھی دے سکتا ہے اور اقامت بھی کہہ سکتا ہے، بالخصوص جب کہ وہ آبادی سے باہر ہو۔ بہرحال اکیلے آدمی کا اقامت کہنا بے فائدہ نہیں ہے۔ واللہ أعلم۔