سنن النسائي - حدیث 654

كِتَابُ الْأَذَانِ الْأَذَانُ فِي التَّخَلُّفِ عَنْ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ يَقُولُ أَنْبَأَنَا رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُنَادِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ فِي السَّفَرِ يَقُولُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 654

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل بارش والی رات میں جماعت کی حاضری سے رخصت کی اذان بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ اس نے دوران سفر میں بارش والی رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن کو یوں کہتے سنا: [حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح، صلوا فی رحالکم] یعنی ’’اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔‘‘ (۱) ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ [حي علی الصلاۃ] اور [حي علی الفلاح] ایک ایک دفعہ کہا جائے گا، لیکن یہ اختصار ہے، عام اذان کی طرح بارش والی اذان میں بھی یہ کلمات دو دو دفعہ ہی کہے جائیں گے بلکہ [صلوا فی بیوتکم یا الا صلوا فی رحالکم] بھی دو دفعہ کہا جائے گا۔ (۲) [صلوا فی رحالکم] سے ملتا جلتا کوئی اور لفظ بھی کہا جا سکتا ہے، مثلا: [صلوا فی بیوتکم] یا [الا صلوا فی الرحال] وغیرہ۔ یہ الفاظ [حي علی الصلاۃ] کے منافی نہیں کیونکہ [حي علی اصلاۃ] کا مقصود ہے ’’نماز پڑھو‘‘ اور اگر اس سے مراد یہ ہو کہ نماز کے لیے مسجد میں آؤ تو یہ خطاب بارش کی صورت میں حاضرین سے ہوگا اور غائبین سے خطاب [الا صلوا فی الرحال] ہوگا۔ (۳) یہ الفاظ اس روایت کے مطابق تو [حي علی الفلاح] کے بعد کہے جائیں گے اور یہی انسب ہے تاکہ لوگوں کو رخصت کا علم ساتھ ہو جائے۔ بعض روایات میں یہ الفاظ اذان کے بعد ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلمات اذان کے بعد الگ کہے جائیں گے تاکہ اذان کی ا صلی صورت میں فرق نہ آئے۔ صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلمات [حي علی اصلاۃ، حي علی الفلاح] کی جگہ کہے جائیں گے۔ (صحیح البخاري، الجمعۃ، حدیث: ۹۰۱، و صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین و قصرھا، حدیث: ۶۹۹) سب روایات صحیح ہیں، لہٰذا تینوں طرح جائز ہے۔ اس مسئلے کی مزید وضاحت کے لیے اسی کتاب کا ابتدائیہ ملاحظہ فرمائیں۔