سنن النسائي - حدیث 647

كِتَابُ الْأَذَانِ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالْأَذَانِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْكُوفِيِّ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 647

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل اذان بلند آواز میں کہی جائے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تحقیق اللہ تعالیٰ پہلی صف پر خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں اور مؤذن کے اس کی آواز پہنچنے کی جگہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس کی اذان سننے والی ہر جاندار و بے جان چیز اس کے ایمان کی تصدیق کرے گی۔ اور اسے اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔ (۱) مؤذن لوگوں کو نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، لہٰذا اسے ان کی نماز کے ثواب کے برابر حصہ ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ (۲) ’’ایمان کی تصدیق‘‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے یا اذان کے موقع پر۔ (۳) [یُصَلُّونَ] اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ فرشتے واسطہ بنتے ہیں، یا فرشتے استغفار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔