سنن النسائي - حدیث 644

كِتَابُ الْأَذَانِ كَيْفَ يَصْنَعُ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِهِ صحيح أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي أَذَانِهِ هَكَذَا يَنْحَرِفُ يَمِينًا وَشِمَالًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 644

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل مؤذن اپنی اذان میں کیسا طریقہ اپنائے؟ حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیاا تو بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور اذان کہی۔ وہ اپنی اذان میں ایسے دائیں بائیں منہ موڑتے تھے۔ ویسے تو اذان قبلہ رخ کہی جاتی ہے مگر [حی علی الصلاۃ] کہتے وقت منہ دائیں طرف اور [حی علی الفلاح] کہتے وقت منہ بائیں طرف کیا جاتا ہے تاکہ دائیں بائیں بھی آواز پہنچ سکے اور یہ سنت ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وقتی ضرورت تھی جو لائوڈ سپیکر کی ایجاد سے پوری ہوگئی ہے، لہٰذا اب دائیں بائیں رخ کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ توجیہ سراسر نبوی طریقۂ کار کے خلاف ہے۔ بظاہر اس میں کوئی حکمت ہو یا نہ ہو، بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر عمل پیرا ہونے ہی میں خیر اور بھلائی ہے۔