سنن النسائي - حدیث 637

كِتَابُ الْأَذَانِ اجْتِزَاءُ الْمَرْءِ بِأَذَانِ غَيْرِهِ فِي الْحَضَرِ صحيح أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ فَقَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ هُوَ حَيٌّ أَفَلَا تَلْقَاهُ قَالَ أَيُّوبُ فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمَّا كَانَ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ فَذَهَبَ أَبِي بِإِسْلَامِ أَهْلِ حِوَائِنَا فَلَمَّا قَدِمَ اسْتَقْبَلْنَاهُ فَقَالَ جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَقَالَ صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 637

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل دوسرے کی اذان کافی ہونے کا بیان حضرت ابو ایوب سے روایت ہے کہ مجھے پہلے یہ روایت ابو قلابہ نے حضرت عمرو بن سلمہ سے بیان کی، پھر ابو قلابہ کہنے لگے کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ زندہ ہیں تم ان سے مل کیوں نہیں لیتے! ایوب نے کہا: میں ان سے جا کر ملا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوا تو ہر قوم نے اپنے اعلانِ اسلام میں ایک دوسرے سے سبقت کی کوشش کی۔ میرے والد محترم بھی ہماری بستی والوں کے اسلام کا اعلان کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے۔ جب وہ واپس آئے تو ہم ان کے استقبال کے لیے گئے! انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’فلاں نماز فلاں وقت پڑھو اور فلاں نماز فلاں وقت اور جب نماز کا وقت ہوو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے وہ امامت کرے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ امامت کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہے جو قرآن کا زیادہ ماہر اور حافظ ہو اور قرآنی علوم سے بھی بہرہ ور ہو۔ اس کے مقابلے میں خالی عالم دین کا درجہ بھی دوسرے نمبر پر ہے۔