سنن النسائي - حدیث 611

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ فَضْلُ الصَّلَاةِ لِمَوَاقِيتِهَا صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 611

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل نمازوں کو ان کے اصل اوقات میں پڑھنے کی فضیلت حضرت ابوعمروشیبانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ہمیں اس گھر کے مالک نے بیان فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’وقت پر نمازپڑھنا، والدین سے حسن سلوک کرنا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔‘‘ باب کا مقصد یہ ہے کہ اصل یہی ہے کہ ہر نماز اپنے وقت پر پڑھی جائے، سوائے عرفات اور مزدلفہ کے کہ وہاں نمازیں جمع کرنا شرعی حکم ہے اور سفر میں بھی دو نمازوں کو جمع کرنا مشروع ہے۔ سفر میں بھی افضل ہر نماز کو وقت ہی پر پڑھنا ہے۔ سر میں جمع کرنا رخصت ہے، افضل نہیں۔ اسی طرح حضر میں کبھی کسی عذر کی بنا پر جمع کرلینا بھی رخصت ہے، بہرحال ہر نماز کو حسب امکان اپنےوقت ہی پر ادا کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔