سنن النسائي - حدیث 590

كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ الْوَقْتُ الَّذِي يَجْمَعُ فِيهِ الْمُقِيمُ صحيح ، دون قوله : " أخر الظهر ... " إلخ فإنه مدرج أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 590

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل جس وقت مقیم یھی دو نمازیں اکٹھی پڑھ سکتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں آٹھ رکعتیں اکٹھی اور سات رکعتیں اکٹھی پڑھیں۔ آپ نے ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کو جلدی پڑھا، اسی طرح مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء کو جلدی پڑھا۔ (۱)حدیث میں وارد یہ الفاظ: [اخر الظھر۔۔۔ وعجل العشاء] مدرج ہیں۔ یہ جابر بن زید کا اپنا کلام ہے جو انھوں نے اپنے گمان کے طور پر بیان کیا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ نہیں ہیں جیسا کہ بخاری و مسلم کی تفصیلی روایات سے پتا چلتا ہے، نیز محقق کتاب نے بھی تخریج میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے، لہٰذا نھیں بنیاد بنا کر جمع حقیقی کی نفی نہیں کی جاسکتی جیسا کہ بعض لوگ اسے جمع حقیقی کی بجائے جمع صوری قرار دیتے ہیں، یہ بات صحیح نہیں، حدیث کے الفاظ کی تائید نہیں کرتے ۔ واللہ اعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سلسلۃ الاھادیث الصحیحۃ، حدیث: ۲۷۹۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل حالتِ اقامت، یعنی مدینہ منورہ کا ہے۔ گویا آپ نے اس موقع پر بغیر کسی سبب کے دو دو نمازیں اکٹھی کرکے پڑھیں۔ استفسار پر آپ نے اس کی وضاحت یہ فرمائی: ’’تاکہ میری امت کو مشقت نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث:۷۰۵) اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مقیم شخص بھی ضرورت کے پیش نظر دونمازیں اکٹھی کرکے پڑھ سکتا ہے لیکن تساہل، کاروباری مشاغل اور عادت کے طور پر ا یسا کرنا کبیرہ گناہ ہے، عام حالات میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔